ممبئی،30ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)تنازعات میں گھری بی سی سی آئی آج لوڈھا کمیٹی کی وسیع انتظامی اصلاحات کی سفارشات کو لاگو کرنے کی پہلی میعادسے چوک گئی کیونکہ اسے تکنیکی بنیاد پر اپنی خصوصی جنرل میٹنگ کو ملتوی کرنا پڑا۔بی سی سی آئی پر اپنے سارے اعلی حکام کو گنوانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس میں صدر انوراگ ٹھاکر بھی شامل ہے،اسے آج ایس جی ایم میں مستقبل کی حکمت عملی پر بحث کرنی تھی کیونکہ سپریم کورٹ نے بدھ کو کرکٹ بورڈ کو خبردار کیا تھا کہ یا تو وہ راستے پر آئے یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔بورڈ کو اصلاحات کا پہلا سیٹ لاگو کرنے کے لئے آج تک کا وقت دیا گیا تھا، جس میں اسے یونین اور قوانین سے متعلق نئے رضامندی خطوط کو اپنانے کی ضرورت تھی،تاہم اس معاملے پر بحث کے لیے میٹنگ کو کل تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا کیونکہ بی سی سی آئی کی کچھ رکنی اکائیاں لازمی حق خطوط کے ا بغیر آ گئی تھیں۔اجلاس میں موجود ذرائع نے کہا کہ انہیں اپنی متعلقہ اکائیوں سے مناسب حق خطوط کے ساتھ آنے کو کہا گیا ہے۔بی سی سی آئی نے سپریم کورٹ میں لوڈھا پینل کی سفارشات کو چیلنج دیتے ہوئے ازسرنوجائزہ پٹیشن دائر کی تھی لیکن اب اس کے پاس زیادہ آپشن نہیں بچے ہیں۔لوڈھا کمیٹی نے اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں سپریم کورٹ کو بی سی سی آئی کی طرف شدہ مختلف خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا جو پینل کی سفارشات کے خلاف تھے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے بورڈ کو پھٹکار لگائی۔بی سی سی آئی کے پاس اسٹیٹس رپورٹ کا جواب دینے کے لیے چھ اکتوبر تک کا وقت ہے۔